جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، پھر جسے اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی گئی تو یہ لوگ اپنی کتاب پڑھیں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے برابر (بھی) ظلم نہ ہو گا۔
En
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا
جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وه تو شوق سے اپنا نامہٴ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر (ذره برابر) بھی ﻇلم نہ کئے جائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو (اپنی عدالت میں) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشد و ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہو گی اور اس امت کو وہی رسول، اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش كيے جائیں گے، جسے لے کر رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہو جائیں گے۔ ﴿ فَ٘مَنْاُوْتِیَكِتٰبَهٗبِیَمِیْنِهٖ ﴾”پس جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں “ کیونکہ اس نے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے اپنے ہادی و راہنما کی پیروی کی تھی اور اس کی کتاب کو اپنا لائحہ عمل بنایا تھا تب اس کی نیکیاں بڑھ گئیں اور اس کے گناہ کم ہو گئے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَیَقْرَءُوْنَؔكِتٰبَهُمْ ﴾”پس وہ (خوش خوش) اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے“ کیونکہ وہ اس اعمال نامے میں ایسی چیزیں دیکھیں گے جنھیں دیکھ کر انھیں فرحت و سرور حاصل ہو گا۔ ﴿ وَلَایُظْلَمُوْنَفَتِیْلًا ﴾”اور ان پر ایک دھاگے برابر ظلم نہیں ہوگا“ یعنی انھوں نے جو نیک عمل كيے ہیں اس بارے میں ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن حال الخلق يوم القيامة، وأنه يدعو كلَّ أناس معهم إمامهم وهاديهم إلى الرُّشد، وهم الرسل ونوابهم، فتعرض كلُّ أمة، ويحضرها رسولهم الذي دعاهم، وتعرض أعمالهم على الكتاب الذي يدعو إليه الرسول هل هي موافقة له أم لا؟ فينقسمون بهذا قسمين: {فمن أوتي كتابه بيمينه}: لكونه اتَّبع إمامه الهادي إلى صراطٍ مستقيم، واهتدى بكتابه، فكثرت حسناتُه، وقلَّت سيئاتُه؛ {فأولئك يقرؤون كتابهم}: قراءة سرورٍ وبهجة على ما يرون فيها مما يفرِحُهم ويسرُّهم، {ولا يُظلمون فتيلاً}: ممّا عملوه من الحسنات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔