اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔
En
اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی
یقیناً ہم نے اوﻻد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اس کا بے پناہ کرم و احسان ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے بنی آدم کو ہر لحاظ سے عزت و تکریم سے نوازا۔ انھیں علم و عقل عطا کر کے، انبیاء و ورسل بھیج کراور ان پرکتابیں نازل کر کے اکرام بخشا، ان میں سے اپنے اولیاء اور دیگر چنے ہوئے بندے پیدا كيے اور ان کو اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ ﴿ وَحَمَلْنٰهُمْفِیالْـبَرِّ ﴾”اور ہم نے سواری دی ان کو خشکی میں “ یعنی ہم نے انھیں اونٹوں، خچروں، گدھوں اور دیگر زمینی سواریوں پر سوار کرایا۔ ﴿وَالْبَحْرِ ﴾”اور دریا میں “ یعنی ہم نے انھیں بحری جہازوں اور کشتیوں پر سوار کرایا۔ ﴿ وَرَزَقْنٰهُمْمِّنَالطَّیِّبٰؔتِ ﴾”اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی دی“ یعنی ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات، ملبوسات اور بیویاں عطا کیں، چنانچہ ہر وہ پاک چیز جس کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان کو مشرف فرمایا اور اس کا حصول ان کے لیے نہایت آسان کر دیا۔
﴿ وَفَضَّلْنٰهُمْعَلٰىكَثِیْرٍمِّمَّنْخَلَقْنَاتَفْضِیْلًا﴾”اور ہم نے بہت سی مخلوق پر ان کو بڑی فضیلت عطا کی“ یعنی ہم نے انھیں بہت سے مناقب کے ذریعے سے خصوصی اعزاز بخشا اور انھیں بہت سے فضائل عطا كيے جو مختلف اقسام کی دیگر مخلوقات کو عطا نہیں كيے، پھر وہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے جس نے نعمتیں عطا کیں، تکالیف دور کیں؟ یہ نعمتیں انھیں اللہ تعالیٰ سے محجوب نہ کریں کہ وہ ان نعمتوں میں مشغول ہو کر اپنے رب کی عبادت سے غافل ہو جائیں بلکہ بسااوقات انھوں نے ان نعمتوں کو اپنے رب کی نافرمانی میں استعمال کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من كرمِهِ عليهم وإحسانه الذي لا يقادَرُ قَدْرُهُ؛ حيث كرَّم بني آدم بجميع وجوه الإكرام، فكرَّمهم بالعلم والعقل وإرسال الرسل وإنزال الكتب، وجعل منهم الأولياءَ والأصفياء، وأنعم عليهم بالنِّعم الظاهرة والباطنة، {وحَمَلْناهم في البرِّ}: على الركاب من الإبل والبغال والحمير والمراكب البريَّة. وفي {البحر}: في السفن والمراكب، {ورَزَقْناهم من الطيبات}: من المآكل والمشاربِ والملابس والمناكح؛ فما من طيب تتعلَّق به حوائجهم إلاَّ وقد أكرمهم الله به ويسَّره لهم غاية التيسيرِ، {وفضَّلْناهم على كثيرٍ ممَّن خَلَقْنا تفضيلاً}: بما خصَّهم به من المناقب وفضَّلهم به من الفضائل التي ليست لغيرهم من أنواع المخلوقات، أفلا يقومون بشكر مَنْ أولى النعم ودَفَعَ النِّقم ولا تحجبهم النِّعم عن المنعم فيشتغلوا بها عن عبادة ربِّهم، بل ربَّما استعانوا بها على معاصيه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔