اس نے کہا کیا تونے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔
En
(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا
اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اوﻻد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس میں کرلوں گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ابلیس پر واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو فضیلت بخشی ہے ﴿ قَالَ ﴾ تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: ﴿ اَرَءَیْتَكَهٰؔذَاالَّذِیْكَرَّمْتَعَلَیَّ١ٞلَىِٕنْاَخَّ٘رْتَنِاِلٰىیَوْمِالْقِیٰمَةِلَاَحْتَنِكَ٘نَّذُرِّیَّتَهٗۤ ﴾”بھلا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے، اگر تو مجھے قیامت تک ڈھیل دے دے تو میں اس کی اولاد کو اپنے بس میں کر لوں گا“ یعنی میں ضلالت کے ذریعے سے ضرور ان کو تباہ کروں گا اور ضرور ان کو سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا۔ ﴿ اِلَّاقَلِیْلًا ﴾”سوائے تھوڑے لوگوں کے“ اس خبیث کو اچھی طرح معلوم تھا کہ بنی آدم میں سے کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو اس سے عداوت رکھیں گے اور اس کی بات نہیں مانیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما تبين لإبليس تفضيل الله لآدم؛ {قال} مخاطباً لله: {أرأيتَكَ هذا الذي كرَّمْتَ عليَّ لئنْ أخَّرْتَنِ إلى يوم القيامةِ لأحتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ}؛ أي: لأستأصلَنَّهم بالإضلال ولأغْوِيَنَّهم، {إلاَّ قليلاً}: عرف الخبيثُ أنَّه لا بدَّ أن يكون منهم من يعاديه ويعصيه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔