اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا۔
En
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو شیطان کی سخت عداوت اور اس کی بندوں کو گمراہ کرنے کی بے پناہ حرص کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب اس نے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تو شیطان نے تکبر کا اظہار کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ﴿ قَالَ﴾ اور نہایت تکبر سے کہا: ﴿ءَاَسْجُدُلِمَنْخَلَقْتَطِیْنًا﴾”کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی کا بنایا“ یعنی جس کو تو نے گارے سے پیدا کیا اور بزعم خود وہ آدم سے بہتر ہے کیونکہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔ گزشتہ صفحات میں متعدد پہلوؤں سے اس قیاس باطل کی خرابی بیان کی جا چکی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ينبِّه تبارك وتعالى عباده على شدَّة عداوة الشيطان وحرصه على إضلالهم، وأنَّه لما خَلَقَ الله آدم؛ استكبر عن السجود له و {قال} متكبِّراً: {أأسجُدُ لمن خلقتَ طيناً}؛ أي: من طين، وبزعمه أنَّه خيرٌ منه؛ لأنه خُلِقَ من نارٍ، وقد تقدَّم فساد هذا القياس الباطل من عدة أوجه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔