تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 46

وَّ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً اَنۡ یَّفۡقَہُوۡہُ وَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرًا ؕ وَ اِذَا ذَکَرۡتَ رَبَّکَ فِی الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَہٗ وَلَّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِہِمۡ نُفُوۡرًا ﴿۴۶﴾
اور ہم نے ان کے دلوں پر کئی پردے بنا دیے ہیں، (اس سے) کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ۔ اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔ En
اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں
En
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّجَعَلْنَا عَلٰى قُ٘لُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ان کے ہوتے ہوئے یہ اس قرآن کو سمجھنے سے عاری ہیں، البتہ یہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْ٘رًا اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے یعنی ان کے کان قرآن سننے سے بہرے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْ٘قُ٘رْاٰنِ وَحْدَهٗ اور جب آپ ذکر کرتے ہیں اپنے رب کا قرآن میں کہ وہ اکیلا ہے یعنی توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے اور شرک سے روکتے ہوئے ﴿ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَ٘ارِهِمْ نُفُوْرًؔا تو بھاگ جاتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر قرآن سے نہایت سخت بغض رکھنے اور اپنے باطل موقف سے محبت کی وجہ سے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُ٘لُ٘وْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ (الزمر: 39؍45) جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کراہت کی وجہ سے منقبض ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ خداؤں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوشی سے کھل جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجَعَلْنا على قلوبِهِم أكِنَّةً}؛ أي: أغطية وأغشية لا يفقهون معها القرآن، بل يسمعونه سماعاً تقوم به عليهم الحجَّة، {وفي آذانهم وَقْراً}؛ أي: صمماً عن سماعه، {وإذا ذكرتَ ربَّك في القرآن وحدَه}: داعياً لتوحيده، ناهياً عن الشرك به؛ {وَلَّوا على أدبارِهِم نُفوراً}: من شدَّة بُغضهم له ومحبَّتهم لما هم عليه من الباطل؛ كما قال تعالى: {وإذا ذُكِرَ اللهُ وحدَه اشمأزَّت قلوبُ الذين لا يؤمنون بالآخرةِ وإذا ذُكِرَ الذين من دونِهِ إذا هم يستبشرونَ}.