تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 45

وَ اِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾
اور جب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک پوشیدہ پردہ بنا دیتے ہیں۔ En
اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں
En
تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیده حجاب ڈال دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاِذَا قَ٘رَاْتَ الْ٘قُ٘رْاٰنَ اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابً٘ا مَّسْتُوْرًؔا تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن عقوبته للمكذِّبين بالحقِّ الذين ردُّوه وأعرضوا عنه أنَّه يَحول بينَهم وبين الإيمان، فقال: {وإذا قرأتَ القرآنَ}: الذي فيه الوعظُ والتَّذكير والهدى والإيمان والخير والعلم الكثيرُ؛ {جَعَلْنا بينَك وبين الذين لا يؤمنونَ بالآخرة حجاباً مستوراً}: يستُرهم عن فهمه حقيقةً وعن التحقُّق بحقائقه والانقياد إلى ما يدعو إليه من الخير.