تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جنھوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاِذَاقَ٘رَاْتَالْ٘قُ٘رْاٰنَ ﴾”اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر، ہدایت و ایمان، بھلائی اور علم کثیر ہے۔ ﴿ جَعَلْنَابَیْنَكَوَبَیْنَالَّذِیْنَلَایُؤْمِنُوْنَبِالْاٰخِرَةِحِجَابً٘امَّسْتُوْرًؔا﴾”تو ہم کر دیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ۔“ جو انھیں اس کے حقیقی فہم، اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عقوبته للمكذِّبين بالحقِّ الذين ردُّوه وأعرضوا عنه أنَّه يَحول بينَهم وبين الإيمان، فقال: {وإذا قرأتَ القرآنَ}: الذي فيه الوعظُ والتَّذكير والهدى والإيمان والخير والعلم الكثيرُ؛ {جَعَلْنا بينَك وبين الذين لا يؤمنونَ بالآخرة حجاباً مستوراً}: يستُرهم عن فهمه حقيقةً وعن التحقُّق بحقائقه والانقياد إلى ما يدعو إليه من الخير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔