تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 41

وَ لَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِیَذَّکَّرُوۡا ؕ وَ مَا یَزِیۡدُہُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا ﴿۴۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور وہ انھیں نفرت کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ En
اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں
En
ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لیے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان كيے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان كيے ہیں اور انھیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انھیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتٰی کہ وہ باطل کے لیے تعصب میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه صرَّف لعباده في هذا القرآن؛ أي: نوَّع الأحكام ووضَّحها وأكثر من الأدلَّة والبراهين على ما دعا إليه، ووعظ وذكَّر لأجل أن يتذكَّروا ما ينفعهم فيَسْلُكوه وما يضرُّهم فيدعوه، ولكن أبى أكثر الناس {إلاَّ نفوراً} عن آيات الله؛ لبغضهم للحقِّ ومحبَّتهم ما كانوا عليه من الباطل، حتى تعصَّبوا لباطلهم، ولم يُعيروا آيات الله لهم سمعاً، ولا ألقَوْا لها بالاً.