تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 40

اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾
پھر کیا تمھارے رب نے تمھیں بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لی ہیں؟ بے شک تم یقینا ایک بہت بڑی بات کہہ رہے ہو۔ En
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
En
کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس شخص پر نہایت شدت سے نکیر ہے جس کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا ہے بنابریں فرمایا: ﴿اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ کیا تمھارے رب نے تم کو لڑکے دیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے چن کر تمھارے لیے کامل ترین حصہ مقرر کر دیا اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا… کیونکہ مشرکین کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ﴿ اِنَّـكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا بے شک تم کہتے ہو بھاری بات۔ تمھارا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کر دی۔ تمھارا قول اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور اس کی کچھ مخلوق اس سے بے نیاز ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے حق میں اولاد کی دونوں قسموں میں سے زیادہ ردی قسم کا فیصلہ کیا یعنی تم نے اس کی طرف بیٹیوں کو منسوب کر دیا، حالانکہ اس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھیں بیٹے عطا كيے۔ پس بہت بلند ہے اللہ تعالیٰ اس بات سے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا إنكارٌ شديدٌ على من زَعَمَ أنَّ الله اتَّخذ من خلقه بنات، فقال: {أفأصفاكم ربُّكم بالبنين}؛ أي: اختار لكم الصَّفوة والقسم الكامل، {واتَّخذ}: لنفسه {من الملائكة إناثاً}: حيث زعموا أن الملائكة بنات الله. {إنَّكُم لَتَقُولُونَ قَولاً عَظِيماً}: فيه أعظم الجرأة على الله، حيث نسبتُم له الولد المتضمِّن لحاجته، واستغناء بعض المخلوقات عنه، وحكموا له بأردأ القسمين، وهن الإناث، وهو الذي خلقكم واصطفاكم بالذكور، فتعالى الله عما يقول الظالمون علوًّا كبيراً.