تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں حسی راستے کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ وہ اس راستے کو اونٹوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے سے طے کرتے ہیں … وہاں اس معنوی راستے کا بھی ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَعَلَىاللّٰهِقَصْدُالسَّبِیْلِ ﴾”اور اللہ تک پہنچتا ہے سیدھا راستہ“ یعنی صراط مستقیم جو قریب ترین اور مختصر ترین راستہ ہے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
رہا عقائد و اعمال میں ظلم کا راستہ تو اس سے مراد ہر وہ راستہ ہے جو صراط مستقیم کی مخالفت کرتا ہے یہ راستہ اللہ تعالیٰ سے منقطع کر کے شقاوت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ پس ہدایت یافتہ لوگ اپنے رب کے حکم سے صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگ ظلم و جور کے راستوں کو اختیار کرتے ہیں ﴿وَلَوْشَآءَلَهَدٰؔىكُمْاَجْمَعِیْنَ ﴾”اور اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے“ مگر اللہ تعالیٰ بعض کو اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا کرتا ہے اور بعض کو اپنے عدل و حکمت کی بنا پر گمراہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر تعالى الطريق الحسيَّ، وأنَّ الله قد جعل للعباد ما يقطعونه به من الإبل وغيرها؛ ذكر الطريق المعنويَّ الموصل إليه، فقال: {وعلى الله قَصْدُ السبيل}؛ أي: الصراط المستقيم، الذي هو أقرب الطرق وأخصرها، موصل إلى الله وإلى كرامته، وأما الطريقُ الجائر في عقائده وأعماله، وهو كلُّ ما خالف الصراط المستقيم؛ فهو قاطعٌ عن الله، موصلٌ إلى دار الشقاء، فسلك المهتدون الصراط المستقيم بإذن ربِّهم، وضلَّ الغاوون عنه، وسلكوا الطرق الجائرة. {ولو شاء لهداكم أجمعين}: ولكنه هدى بعضاً كرماً وفضلاً، ولم يهدِ آخرين حكمةً منه وعدلاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔