تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 10

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنۡہُ شَرَابٌ وَّ مِنۡہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾
وہی ہے جس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، تمھارے لیے اسی سے پینا ہے اور اسی سے پودے ہیں جن میں تم چراتے ہو۔ En
وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو
En
وہی تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں اپنی عظمت اور قدرت کے بارے میں انسان کو آگاہ فرماتا ہے اور ان آیات کے اختتام پر ﴿ لِّقَوْمٍ یَّتَفَؔكَّـرُوْنَ۠ غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ کہہ کر اپنی قدرت کاملہ پر غور و فکر کرنے کی ترغیب دی ہے، جس نے اپنی قدرت کاملہ سے اس رقیق و لطیف بادل سے پانی برسایا، یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے بکثرت پانی نازل کیا جسے وہ خود پیتے ہیں، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہیں اور اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، پس ان کھیتوں سے بے شمار پھل اوردیگر نعمتیں پیدا ہوتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

بذلك على كمال قدرة الله الذي أنزل هذا الماء من السحابِ الرقيق اللطيف ورحمته، حيث جعل فيه ماء غزيراً منه يشربون، وتشربُ مواشيهم، ويسقون منه حروثَهم، فتخرج لهم الثمرات الكثيرة والنعم الغزيرة.