تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 88

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ زِدۡنٰہُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفۡسِدُوۡنَ ﴿۸۸﴾
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب زیادہ دیں گے، اس کے بدلے جو وہ فساد کیا کرتے تھے۔ En
جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے
En
جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راه سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے، یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں مجرموں کے انجام کا ذکر فرماتا ہے کہ انھوں نے کفر کیا، آیات الٰہی کی تکذیب کی، انبیاء و رسل کے خلاف جنگ کی، لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور گمراہی کے داعی بن گئے، اس لیے وہ کئی گنا عذاب کے مستحق قرار پائے، جس طرح ان کا جرم کئی گنا ہے اور جس طرح انھوں نے اللہ کی زمین میں فساد برپا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

حيث كفروا بأنفسهم، وكذَّبوا بآيات الله، وحاربوا رُسُلَه، وصدُّوا الناس عن سبيل الله، وصاروا دعاةً إلى الضلال، فاستحقُّوا مضاعفة العذاب كما تضاعَفَ جرمُهم، وكما أفسدوا في أرض الله.