تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 87

وَ اَلۡقَوۡا اِلَی اللّٰہِ یَوۡمَئِذِۣ السَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔ En
اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا
En
اس دن وه سب (عاجز ہوکر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وه سب ان سے گم ہو جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تب اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شرک کو تسلیم کر لیں گے اور اس کے فیصلے کے سامنے جھک جائیں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ﴿ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اور ان سے گم ہو جائیں گے جو جھوٹ وہ باندھتے تھے پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور ان کے دل خود اپنے آپ پر غصے اور اپنے رب کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں گے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انھی بداعمالیوں کی سزا دی ہے جن کا انھوں نے ارتکاب کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ استسلموا لله، وخضعوا لحكمه، وعلموا أنهم مستحقون للعذاب، {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترون}: فدخلوا النارَ وقد امتلأت قلوبُهم من مَقْتِ أنفسهم ومن حَمْدِ ربِّهم، وأنَّه لم يعاقِبْهم إلاَّ بما كسبوا.