تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 49

وَ لِلّٰہِ یَسۡجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ الۡمَلٰٓئِکَۃُ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کوئی بھی چلنے والا (جانور) ہو اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ En
اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے
En
یقیناً آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں میں سے یعنی تمام انسانوں اور حیوانات میں سے ﴿ وَّالْمَلٰٓىِٕكَةُ اور فرشتے یعنی اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فضیلت، ان کے شرف اور ان کی کثرت عبادت کی وجہ سے، تمام مخلوقات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ وَهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ یعنی وہ اپنی کثرت، عظمت اخلاق اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار نہیں کرتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَ٘نْ یَّسْتَنْكِفَ الْ٘مَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَلَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ الْ٘مُقَ٘رَّبُوْنَ۠ (النساء: 4؍ 172) مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) اور مقرب فرشتے اس بات کو عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولله يسجد ما في السمواتِ وما في الأرضِ من دابَّة}: من الحيوانات الناطقة والصامتة، {والملائكةُ}: الكرام، خصَّهم بعد العموم لفضلهم وشرفهم وكثرة عبادتهم، ولهذا قال: {وهم لا يستكْبِرونَ}؛ أي: عن عبادته؛ على كثرتهم وعظمة أخلاقهم وقوَّتهم؛ كما قال تعالى: {لن يستنكفَ المسيحُ أن يكون عبداً لله ولا الملائكة المقربون}.