تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلِلّٰهِیَسْجُدُمَافِیالسَّمٰوٰتِوَمَافِیالْاَرْضِمِنْدَآبَّةٍ﴾”اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں میں سے“ یعنی تمام انسانوں اور حیوانات میں سے ﴿ وَّالْمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾”اور فرشتے“ یعنی اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فضیلت، ان کے شرف اور ان کی کثرت عبادت کی وجہ سے، تمام مخلوقات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿ وَهُمْلَایَسْتَكْبِرُوْنَ۠ ﴾”اور وہ تکبر نہیں کرتے۔“ یعنی وہ اپنی کثرت، عظمت اخلاق اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار نہیں کرتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَ٘نْیَّسْتَنْكِفَالْ٘مَسِیْحُاَنْیَّكُوْنَعَبْدًالِّلّٰهِوَلَاالْمَلٰٓىِٕكَةُالْ٘مُقَ٘رَّبُوْنَ۠ ﴾ (النساء: 4؍ 172) ”مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) اور مقرب فرشتے اس بات کو عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولله يسجد ما في السمواتِ وما في الأرضِ من دابَّة}: من الحيوانات الناطقة والصامتة، {والملائكةُ}: الكرام، خصَّهم بعد العموم لفضلهم وشرفهم وكثرة عبادتهم، ولهذا قال: {وهم لا يستكْبِرونَ}؛ أي: عن عبادته؛ على كثرتهم وعظمة أخلاقهم وقوَّتهم؛ كما قال تعالى: {لن يستنكفَ المسيحُ أن يكون عبداً لله ولا الملائكة المقربون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔