تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 48

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔ En
کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں
En
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَمْ یَرَوْا کیا انھوں نے نہیں دیکھا۔ یعنی کیا اپنے رب کی توحید، اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا؟ ﴿ اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ان چیزوں کی طرف، جن کو اللہ نے پیدا کیا یعنی تمام مخلوقات کی طرف ﴿ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ کہ ان کے سائے لوٹتے رہتے ہیں ﴿ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَآىِٕلِ سُجَّؔدًؔا لِّلّٰهِ ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے، اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے یعنی تمام اشیا کے سائے، اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ﴿ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ اور وہ جھکے رہتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل، مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت مقہور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی پیشانی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں اور اس کی تدبیر اس کے پاس نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {أولم يروا}؛ أي: الشاكُّون في توحيد ربِّهم وعظمته وكماله، {إلى ما خَلَقَ الله من شيء}؛ أي: إلى جميع مخلوقاته، وكيف تتفيَّأ أظلتها {عن اليمين والشمائل سُجَّداً لله}؛ أي: كلها ساجدةٌ لرِّبها خاضعة لعظمته وجلاله، {وهم داخِرونَ}؛ أي: ذليلون تحت التسخير والتدبير والقهر، ما منهم أحدٌ إلاَّ وناصيته بيد الله وتدبيره عنده.