تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 38

وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ ۙ لَا یَبۡعَثُ اللّٰہُ مَنۡ یَّمُوۡتُ ؕ بَلٰی وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾
اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔ کیوں نہیں! وعدہ ہے اس کے ذمے سچا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ En
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
وه لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ زنده نہیں کرے گا۔ کیوں نہیں ضرور زنده کرے گا یہ تو اس کا برحق ﻻزمی وعده ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاَقْ٘سَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھاتے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہو جانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے: ﴿ بَلٰى کیوں نہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انھیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ﴿ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا اس پر وعدہ ہو چکا ہے پکا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَؔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن المشركين المكذِّبين لرسوله أنَّهم {أقسموا بالله جَهْدَ أيمْانِهِم}؛ أي: حلفوا أيماناً مؤكَّدة مغلَّظة على تكذيب الله وأن الله لا يَبْعَثُ الأموات ولا يقدِرُ على إحيائهم بعد أن كانوا تراباً. قال تعالى مكذِّباً لهم: {بلى} سيبعثُهم ويجمعُهم ليوم لا ريبَ فيه. {وعداً عليه حقًّا}: لا يُخْلِفُه ولا يغيِّره. {ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمونَ}: ومن جهلهم العظيم إنكارُهم البعث والجزاء.