تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 29

فَادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ فَلَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۲۹﴾
پس جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجائو، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہو، سو بلاشبہ وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ En
سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے
En
پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب وہ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوں گے تو تمام گناہ گار اپنے گناہ کے مطابق اور اپنے حسب حال دروازوں میں سے داخل ہوں گے۔ ﴿ فَ٘لَ٘بِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ پس کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا یعنی جہنم کی آگ کیونکہ یہ حسرت و ندامت کا ٹھکانا، الم و شقاوت کی منزل، رنج و غم کا مقام اور اللہ حیی و قیوم کی سخت ناراضی کا موقع ہو گا۔ جہنم کا عذاب ان سے دور نہ کیا جائے گا، جہنم کے عذاب کی المناکی کو ان سے ایک دن کے لیے بھی رفع نہ کیا جائے گا۔ رب رحیم ان سے منہ پھیر لے گا اور ان کو عذاب عظیم کا مزا چکھائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذا دخلوا أبواب جهنَّم، كلُّ أهل عمل يدخُلون من الباب اللائق بحالهم؛ فبئسَ {مثوى المتكبِّرين}: نار جهنم؛ فإنَّها مثوى الحسرة والندم، ومنزل الشقاء والألم، ومحلُّ الهموم والغموم، وموضعُ السَّخَط من الحيِّ القيُّوم، لا يُفَتَّر عنهم من عذابها، ولا يُرْفَع عنهم يوماً من أليم عقابها، قد أعرض عنهم الربُّ الرحيم، وأذاقهم العذاب العظيم.