تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 28

الَّذِیۡنَ تَتَوَفّٰىہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۪ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعۡمَلُ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ بَلٰۤی اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، تو وہ فرماں برداری پیش کرتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کیا کرتے تھے۔ کیوں نہیں! یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ En
(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے
En
وه جو اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وه جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے واﻻ ہے جو کچھ تم کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی وفات کے وقت اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کیا سلوک کرے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں جبکہ وہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے ہیں۔ یعنی فرشتے اس حال میں ان کی جان قبض کر رہے ہوں گے کہ ان کا ظلم اور ان کی گمراہی اپنے عروج پر ہو گی اور ظالم لوگ جس طرح وہاں، مختلف قسم کے عذاب، رسوائی اور اہانت سے دوچار ہوں گے، معلوم ہو جائے گا۔ ﴿ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ تب وہ ظاہر کریں گے فرماں برداری یعنی اس وقت وہ بڑی فرماں برداری کا اظہار اور اپنے ان معبودوں کا انکار کریں گے جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے اور کہیں گے: ﴿ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: ﴿ بَلٰۤى کیوں نہیں تم برائی کیا کرتے تھے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یقینا اللہ، تم جو کچھ کرتے تھے، جانتا ہے پس تمھارا انکار تمھیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ ان کے یہ احوال قیامت کے بعض مقامات پر ہوں گے۔ وہ یہ گمان کرتے ہوئے، دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا انکار کر دیں گے کہ ان کا یہ انکار ان کو کچھ فائدہ دے گا۔ مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں اور دیگر جوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے اور ان کے اعمال لوگوں کے سامنے آشکارا ہو جائیں گے تو اپنے کرتوتوں کا اقرار اور اعتراف کر لیں گے، اس لیے وہ اس وقت تک جہنم میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کر لیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر ما يفعل بهم عند الوفاةِ وفي القيامة، فقال: {الذين تتوفَّاهم الملائكةُ ظالمي أنفُسِهِم}؛ أي: تتوفَّاهم في هذه الحال التي كَثُر فيها ظلمُهم وغيُّهم، وقد علم ما يلقى الظلمة في ذلك المقام من أنواع العذاب والخزي والإهانة. {فألقَوُا السَّلَم}؛ أي: استسلموا وأنكروا ما كانوا يعبُدونهم من دون الله، وقالوا: {ما كُنَّا نعملُ مِنْ سوءٍ}: فيُقال لهم: {بلى}: كنتُم تعملون السوءَ. فَـ {إنَّ الله عليم بما كنتُم تعملون}: فلا يُفيدكم الجحود شيئاً. وهذا في بعض مواقف القيامة؛ ينكرون ما كانوا عليه في الدُّنيا؛ ظنًّا أنه ينفعهم؛ فإذا شهدت عليهم جوارِحُهم، وتبيَّن ما كانوا عليه؛ أقرُّوا واعترفوا، ولهذا لا يدخلون النار حتى يعترِفوا بذُنوبهم.