تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 19

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۱۹﴾
اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ En
اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے
En
اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور جیسے اس کی رحمت بے پایاں، اس کا جودوکرم لا محدود اور اس کی مغفرت تمام بندوں کو شامل ہے، ایسے ہی اس کا علم ان سب کو محیط ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُ٘سِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے، وہ اس کے برعکس ہیں یعنی وہ کچھ نہیں جانتے۔ کیونکہ ﴿ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْـًٔؔا وہ (کم یا زیادہ) کچھ بھی تخلیق کرنے پر قادر نہیں ہیں ﴿ وَّهُمْ یُخْلَقُوْنَؔ اور ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی حالت یہ ہے کہ خود ان کو پیدا کیا گیا ہے وہ ہستیاں جو خود اپنے وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہوں وہ کیسے کوئی چیز پیدا کر سکتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكما أن رحمته واسعةٌ وجوده عميمٌ ومغفرته شاملةٌ للعباد؛ فعلمه محيطٌ بهم، يعلم ما يسرُّون وما يعلنون بخلاف مَنْ عُبِد من دونه فإنهم {لا يَخْلُقون شيئاً}: قليلاً ولا كثيراً. {وهم يُخْلَقون}؛ فكيف يَخْلُقون شيئاً مع افتقارهم في إيجادهم إلى الله تعالى؟!