تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 18

وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بے شک اللہ یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو یعنی اللہ تعالیٰ کے شکر سے صرف نظر کرتے ہوئے، صرف تعداد کے اعتبار سے ﴿ لَا تُحْصُوْهَا تو تم ان کو شمار نہیں کر سکو گے یعنی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو کجا تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے اس لیے کہ ہر قسم کی ظاہری و باطنی نعمتیں، جو اس نے سانسوں اور لحظوں کی تعداد میں بندوں پر کی ہیں، جن میں سے کچھ کو وہ جانتے ہیں اور کچھ کو نہیں جانتے، اسی طرح جو تکلیفیں وہ ان سے دور فرماتا رہتا ہے، یہ سب اتنی زیادہ ہیں کہ حیطۂ شمار سے باہر ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے وہ معمولی سے شکر کو بھی قبول کر لیتا ہے باوجود اس بات کے کہ اس کے انعامات بہت زیادہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن تَعُدُّوا نعمة الله}: عدداً مجرداً عن الشكر، {لا تُحصوها}: فضلاً عن كونكم تشكُرونها؛ فإنَّ نعمه الظاهرة والباطنة على العباد بعدد الأنفاس واللحظات، من جميع أصناف النعم، مما يعرف العباد ومما لا يعرفون، وما يدفع عنهم من النقم؛ فأكثر من أن تحصى. {إنَّ الله لغفورٌ رحيمٌ}: يرضى منكم باليسير من الشكر مع إنعامه الكثير.