اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کر دیا جائے، اس حال میں کہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے گزرنے والا، تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں، پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وه خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے واﻻ ہو تو یقیناً اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّمَاحَرَّمَعَلَیْكُمُ ﴾”اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الْمَیْتَةَ ﴾”مردار۔“ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾”اور خون“ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَلَحْمَالْخِنْ٘زِیْرِ ﴾”اور خنزیر کا گوشت“ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔
﴿ وَمَاۤاُهِلَّلِغَیْرِاللّٰهِبِهٖ﴾”اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔“، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَ٘مَنِاضْطُرَّ ﴾”پس جو شخص مجبور ہو جائے“ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ ﴿ غَیْرَبَ٘اغٍوَّلَاعَادٍ ﴾”نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا“ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّما حرَّم عليكم}: الأشياء المضرَّة تنزيهاً لكم، وذلك: كالميتة، ويدخُلُ في ذلك كلُّ ما كان موته على غير ذكاةٍ مشروعة، ويُستثنى منه ميتة الجرادِ والسمكِ. {والدَّمَ}: المسفوح، وأما ما يبقى في العروق واللحم؛ فلا يضرُّ. {ولحم الخنزير}: لقذارتِهِ وخبثِهِ، وذلك شامل للحمه وشحمه وجميع أجزائه. {وما أُهِلَّ لغير الله به}: كالذي يذبح للأصنام والقبور ونحوها؛ لأنه مقصودٌ به الشرك. {فمن اضْطُرَّ}: إلى شيء من المحرَّمات؛ بأن حملته الضرورةُ وخاف إن لم يأكُلْ أن يَهْلِكَ؛ فلا جناحَ عليه إذا لم يكن باغياً أو عادياً؛ أي: إذا لم يُرِدْ أكل المحرَّم، وهو غير مضطرٍّ ولا متعدٍّ الحلال إلى الحرام أو متجاوزٍ لما زادَ على قَدْرِ الضرورة؛ فهذا الذي حرَّمه الله من المباحات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔