تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 114

فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾
سو کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں حلال، پاکیزہ رزق دیا ہے اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ En
پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو
En
جو کچھ حلال اور پاکیزه روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ ﴿ حَلٰلًا طَیِّبًا حلال اور پاکیزہ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر عباده بأكل ما رزقهم الله من الحيوانات والحبوب والثمار وغيرها. {حلالاً طيِّباً}؛ أي: حالة كونها متَّصفة بهذين الوصفين؛ بحيث لا تكون مما حرَّم الله أو أثراً من غَصْبٍ ونحوه؛ فتمتَّعوا بما خَلَقَ الله لكم من غير إسرافٍ ولا تَعَدٍّ. {واشكُروا نعمةَ الله}: بالاعتراف بها بالقلب، والثناء على الله بها، وصرفها في طاعة الله. {إن كنتُم إيَّاه تعبُدون}؛ أي: إن كنتُم مخلصين له العبادةَ؛ فلا تشكُروا إلاَّ إيَّاه، ولا تنسَوا المنعم.