تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّاكَفَیْنٰكَالْ٘مُسْتَهْزِءِیْنَ ﴾”ہم تمھیں ان لوگوں کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہیں جو تم سے استہزا کرتے ہیں۔“ یعنی جو لوگ آپ کا اور اس حق کا جسے لے کر آپ مبعوث ہوئے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول سے یہ وعدہ ہے کہ تمسخر اڑانے والے آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کے مقابلہ میں، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسا کر دکھایا، چنانچہ جس کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حق کے ساتھ استہزاء کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کیا اور اسے بدترین طریقے سے قتل کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّا كفيناك المستهزئين}: بك وبما جئت به. وهذا وعدٌ من الله لرسوله أن لا يضرُّه المستهزئون، وأن يكفيه الله إيَّاهم بما شاء من أنواع العقوبة، وقد فعل تعالى: فإنَّه ما تظاهر أحدٌ بالاستهزاء برسول الله - صلى الله عليه وسلم - وبما جاء به؛ إلا أهلَكَه الله وقَتَلَهُ شرَّ قِتْلَةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔