تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ کفار مکہ اور اور دیگر کفار کو ہرگز خاطر میں نہ لائیں اور اس چیز کو کھلا کھلا بیان کر دیں جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تمام لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کر دیں، کوئی رکاوٹ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے روک نہ دے اور ان مضطرب اذہان کے مالک لوگوں کی باتیں آپ کو اللہ کی راہ سے روک نہ دیں ﴿ وَاَعْرِضْعَنِالْ٘مُشْرِكِیْنَ﴾”اور مشرکین سے اعراض کریں۔“ یعنی مشرکین کی پروا نہ کیجیے اور اپنا کام کرتے رہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أمر الله رسوله أن لا يبالي بهم ولا بغيرهم، وأن يَصْدَعَ بما أمر الله ويعلنَ بذلك لكلِّ أحدٍ ولا يعوقنَّه عن أمره عائقٌ ولا تصدُّه أقوال المتهوِّكين. {وأعرض عن المشركينَ}: أي؛ لا تبال بهم، واتركْ مشاتَمَتَهم ومسابَّتهم مقبلاً على شأنك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔