تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَؔكَانُوْا ﴾”اور تھے وہ“ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ یَنْحِتُوْنَمِنَالْجِبَالِبُیُوْتًااٰمِنِیْنَ ﴾”تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ“ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالح علیہ السلام کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ یٰصٰلِحُائْتِنَابِمَاتَعِدُنَاۤاِنْكُنْتَمِنَالْمُرْسَلِیْ٘نَ﴾ (الاعراف:7؍77) ”اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكانوا}: من كثرة إنعام الله عليهم، {يَنْحِتون من الجبال بيوتاً آمنينَ}: من المخاوف، مطمئنين في ديارهم؛ فلو شكروا النعمة وصدَّقوا نبيَّهم صالحاً عليه السلام؛ لأدرَّ الله عليهم الأرزاق، ولأكرمهم بأنواع من الثواب العاجل والآجل، ولكنَّهم لما كذَّبوا وعقروا الناقة وعتوا عن أمرِ ربِّهم وقالوا: {يا صالحُ ائتِنا بما تَعِدُنا إن كنتَ من الصَّادقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔