تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 73

فَاَخَذَتۡہُمُ الصَّیۡحَۃُ مُشۡرِقِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾
پس انھیں چیخ نے روشنی ہوتے ہی پکڑ لیا۔ En
سو ان کو سورج نکلتے نکلتے چنگھاڑ نے آپکڑا
En
پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْ٘رِقِـیْنَ پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما بينت له الرسل حالَهم؛ زال عن لوطٍ ما كان يَجِدُه من الضيق والكرب، فامتثل أمر ربِّه، وسرى بأهله ليلاً، فنجوا. وأما أهل القرية؛ {فأخذتْهُمُ الصيحةُ مشرقينَ}؛ أي: وقت شروق الشمس؛ حين كانت العقوبة عليهم أشدّ.