تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 34

قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾
فرمایا پھر اس سے نکل جا ، کیونکہ یقینا تو مردود ہے۔ En
(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے
En
فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌ پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اور تجھ پر لعنت ہے یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ جزا کے دن تک اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} الله معاقباً له على كفره واستكباره: {فاخْرُجْ منها فإنَّك رجيمٌ}؛ أي: مطرود ومبعدٌ من كل خير، {وإنَّ عليك اللعنةَ}؛ أي: الذمَّ والعيب والبعد عن رحمة الله {إلى يوم الدين}. ففيها وما أشبهها دليلٌ على أنَّه سيستمرُّ على كفره وبعده من الخير.