اس آیت کی تفسیر آیت 33 میں تا آیت 35 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہاں سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابدی لعنت ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاخْرُجْمِنْهَافَاِنَّكَرَجِیْمٌ﴾”پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے“ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کر دیا گیا ہے۔ ﴿وَّاِنَّعَلَیْكَاللَّعْنَةَ﴾”اور تجھ پر لعنت ہے“ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے ﴿اِلٰىیَوْمِالدِّیْنِ ﴾”جزا کے دن تک“ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} الله معاقباً له على كفره واستكباره: {فاخْرُجْ منها فإنَّك رجيمٌ}؛ أي: مطرود ومبعدٌ من كل خير، {وإنَّ عليك اللعنةَ}؛ أي: الذمَّ والعيب والبعد عن رحمة الله {إلى يوم الدين}. ففيها وما أشبهها دليلٌ على أنَّه سيستمرُّ على كفره وبعده من الخير.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔