تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤـاِبْلِیْسُمَالَكَاَلَّاتَكُوْنَمَعَالسّٰؔجِدِیْنَقَالَلَمْاَكُ٘نْلِّاَسْجُدَلِبَشَرٍخَلَقْتَهٗمِنْصَلْصَالٍمِّنْحَمَاٍمَّسْنُوْنٍ ﴾”اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے“ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ”میں آدم سے بہتر ہوں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال}: الله: {يا إبليسُ ما لك ألا تكون مع الساجدين. قال لم أكنْ لأسجدَ لبشرٍ خلقتَه من صلصال من حمإٍ مسنونٍ}: فاستكبر على أمر الله، وأبدى العداوة لآدم وذرِّيَّته، وأعجِبَ بعنصره، وقال: أنا خيرٌ من آدم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔