ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجر (15) — آیت 32

قَالَ یٰۤـاِبۡلِیۡسُ مَا لَکَ اَلَّا تَکُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۳۲﴾
فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ توسجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا؟ En
(خدا نے فرمایا) کہ ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
En
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 31 میں تا آیت 33 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا: ”ابلیس! تجھے کیا ہو گیا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤـاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰؔجِدِیْنَ قَالَ لَمْ اَكُ٘نْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خودپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا میں آدم سے بہتر ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال}: الله: {يا إبليسُ ما لك ألا تكون مع الساجدين. قال لم أكنْ لأسجدَ لبشرٍ خلقتَه من صلصال من حمإٍ مسنونٍ}: فاستكبر على أمر الله، وأبدى العداوة لآدم وذرِّيَّته، وأعجِبَ بعنصره، وقال: أنا خيرٌ من آدم.