تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 22

وَ اَرۡسَلۡنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسۡقَیۡنٰکُمُوۡہُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ لَہٗ بِخٰزِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور ہم نے ہوائوں کو بار آور بناکر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے تمھیں وہ پلانے کے لیے عطا فرمایا اور تم ہرگز اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں۔ En
اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے
En
اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں، پھر آسمان سے پانی برسا کر وه تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیره کرنے والے نہیں ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہم نے ہواؤں، یعنی رحمت کی ہواؤں کو مسخر کیا ہے جو بادلوں کو بارآور کرتی ہیں جیسے نر مادہ کو بارآور کرتا ہے۔ ان بادلوں سے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پانی نازل ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بندوں کو، ان کے مویشیوں اور زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور باقی پانی زمین میں ذخیرہ ہو جاتا ہے، وہ ان کی حاجات و ضروریات میں کام آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا تقاضا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰؔزِنِـیْنَ اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے۔ یعنی تمھیں یہ قدرت حاصل نہیں کہ تم پانی کو جمع کر کے اس پانی کا ذخیرہ کر سکو بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمھارے لیے اس کے خزانے جمع کرتا ہے پھر چشموں کی صورت میں زمین پر بہا دیتا ہے یہ اس کی تم پر رحمت اور احسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وسخَّرنا الرياح رياح الرحمة تُلْقِحُ السحاب كما يُلْقِحُ الذكر الأنثى، فينشأ عن ذلك الماء بإذن الله، فيسقيه الله العبادَ ومواشيَهم وأرضَهم، ويُبقي في الأرض مدَّخراً لحاجاتهم وضروراتهم ما هو مقتضى قدرته ورحمته. {وما أنتم له بخازِنينَ}؛ أي: لا قدرة لكم على خزنِهِ وادِّخاره، ولكن الله يخزِنُه لكم ويَسْلُكُه ينابيع في الأرض رحمةً بكم وإحساناً إليكم.