تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 21

وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا عِنۡدَنَا خَزَآئِنُہٗ ۫ وَ مَا نُنَزِّلُہٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ ﴿۲۱﴾
اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔ En
اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں
En
اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقرره انداز سے اتارتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہر قسم کا رزق اور ہر قسم کی تقدیر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے قبضۂ اختیار میں نہیں، رزق کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنی حکمت اور بے کراں رحمت کے مطابق جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے ﴿ وَمَا نُنَزِّلُهٗۤ اور نہیں اتارتے ہم اس کو یعنی ہر مقررہ چیز، جیسے بارش وغیرہ ﴿ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ مگر معین اندازے پر یعنی اس کی جو مقدار اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دی ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے نہ اس سے کم ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: جميع الأرزاق وأصناف الأقدار لا يملِكُها أحدٌ إلاَّ الله؛ فخزائِنُها بيده، يعطي مَن يشاء ويمنع مَن يشاء بحسب حكمته ورحمته الواسعة. {وما ننزِّلُه}؛ أي: المقدَّر من كلِّ شيء من مطر وغيره، {إلاَّ بقدرٍ معلوم}: فلا يزيدُ على ما قدَّره الله، ولا ينقص منه.