تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے کامل اقتدار اور مخلوق پر اپنی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدْجَعَلْنَافِیالسَّمَآءِبُرُوْجًا ﴾”اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج“ یعنی ہم نے ستاروں کو برجوں کی مانند بنایا اور انھیں بڑی علامتیں بنایا جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راستے تلاش کیے جاتے ہیں ﴿ وَّزَیَّنّٰهَالِلنّٰ٘ظِرِیْنَ ﴾”اور خوب صورت بنایا ہے اس کو دیکھنے والوں کے لیے“ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان کا منظر اتنا خوبصورت اور اس کی ہیئت اتنی تعجب خیز نہ ہوتی اور یہ چیز دیکھنے والوں کو ان پر تدبر، ان کے معانی میں غوروفکر اور ان کے ذریعے سے ان کے پیدا کرنے والے پر استدلال کی دعوت دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً كمال اقتداره ورحمته بخلقه: {ولقد جَعَلْنا في السماء بروجاً}؛ أي: نجوماً كالأبراج والأعلام العظام يُهتدى بها في ظُلمات البرِّ والبحر، {وزيَّنَّاها للناظرين}: فإنَّه لولا النجوم؛ لما كان للسماء هذا المنظر البهي والهيئة العجيبة، وهذا مما يدعو الناظرين إلى التأمُّل فيها والنظر في معانيها والاستدلال بها على باريها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔