تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 12

کَذٰلِکَ نَسۡلُکُہٗ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔ En
اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں
En
گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿۠ كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ اسی طرح داخل کر دیتے ہیں ہم اس کو یعنی جھٹلانے کو ﴿ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ گناہ گاروں کے دلوں میں ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفروتکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہو گئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہو گیا، یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہو گئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْ٘نَ وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی یعنی ان کے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{كذلك نَسْلُكُه}؛ أي: ندخل التكذيب {في قلوب المجرمين}؛ أي: الذين وصفهم الظلم والبَهْت، عاقبناهم لما تشابهت قلوبُهم بالكفر والتكذيب تشابهت معاملتهم لأنبيائهم ورسلهم بالاستهزاء والسخرية وعدم الإيمان، ولهذا قال: {لا يؤمنون بِهِ وقد خَلَتْ سنَّةُ الأولين}؛ أي: عادة الله فيهم بإهلاك مَنْ لم يؤمنْ بآيات الله.