تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 40

رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلۡ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾
اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول کر۔ En
اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما
En
اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اوﻻد سے بھی، اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر خلیل علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے ان الفاظ میں دعا مانگی ﴿رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖ ۗ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ۰۰رَبَّنَا اغْ٘فِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ۠ یَوْمَ یَقُوْمُ الْؔحِسَابُ اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب، بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہر دعا قبول فرما لی، سوائے ان کے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کے، جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی اور جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم دعا لنفسه ولذرِّيَّته، فقال: {ربِّ اجعلني مقيم الصَّلاة ومن ذُرِّيَّتي ربَّنا وتقبَّل دُعاء. ربَّنا اغفِرْ لي ولوالديَّ وللمؤمنين يومَ يقومُ الحساب}: فاستجاب الله له في ذلك كلِّه؛ إلاَّ أنَّ دعاءه لأبيه إنما كان عن موعدةٍ وعدها إيَّاه، فلما تبيَّن له أنه عدوٌّ لله؛ تبرَّأ منه.