تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر خلیل علیہ السلام نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے ان الفاظ میں دعا مانگی ﴿رَبِّاجْعَلْنِیْمُقِیْمَالصَّلٰوةِوَمِنْذُرِّیَّتِیْ١ۖ ۗ رَبَّنَاوَتَقَبَّلْدُعَآءِ۰۰رَبَّنَااغْ٘فِرْلِیْوَلِوَالِدَیَّوَلِلْمُؤْمِنِیْنَ۠یَوْمَیَقُوْمُالْؔحِسَابُ﴾”اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب، بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہر دعا قبول فرما لی، سوائے ان کے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کے، جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی اور جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم دعا لنفسه ولذرِّيَّته، فقال: {ربِّ اجعلني مقيم الصَّلاة ومن ذُرِّيَّتي ربَّنا وتقبَّل دُعاء. ربَّنا اغفِرْ لي ولوالديَّ وللمؤمنين يومَ يقومُ الحساب}: فاستجاب الله له في ذلك كلِّه؛ إلاَّ أنَّ دعاءه لأبيه إنما كان عن موعدةٍ وعدها إيَّاه، فلما تبيَّن له أنه عدوٌّ لله؛ تبرَّأ منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔