تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 39

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ وَہَبَ لِیۡ عَلَی الۡکِبَرِ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَسَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۹﴾
سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔ بے شک میرا رب تو بہت دعا سننے والا ہے۔ En
خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے
En
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل واسحاق (علیہما السلام) عطا فرمائے۔ کچھ شک نہیں کہ میرا پالنہار اللہ دعاؤں کا سننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحٰق عطا کیے اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے اور بڑھاپے میں، مایوسی کی حالت میں اولاد کا عطا ہونا ایک دوسری نعمت ہے، پھر ان سب کا صالح انسان اور نبی ہونا جلیل ترین اور افضل ترین مرتبہ ہے۔ ﴿اِنَّ رَبِّیْ لَ٘سَمِیْعُ الدُّعَآءِ میرا رب دعا کا سننے والا ہے یعنی جو کوئی اس سے دعا مانگتا ہے وہ قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے بھی اس کے سامنے دست دعا دراز کیا اور اس نے مجھے ناامید نہیں کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الحمد لله الذي وَهَبَ لي على الكِبَرِ إسماعيل وإسحاقَ}: فَهِبَتُهم من أكبر النعم، وكونهم على الكبر في حال الإياس من الأولاد نعمةٌ أخرى، وكونهم أنبياء صالحين أجلُّ وأفضل. {إنَّ ربِّي لسميع الدعاء}؛ أي: لقريب الإجابة ممن دعاه، وقد دعوتُه فلم يخيِّبْ رجائي.