تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 30

وَ جَعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِیۡرَکُمۡ اِلَی النَّارِ ﴿۳۰﴾
اور انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے، تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دے فائدہ اٹھالو، پس بے شک تمھارا لوٹنا آگ کی طرف ہے۔ En
اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے
En
انہوں نے اللہ کے ہمسر بنالیے کہ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ خیر مزے کرلو تمہاری بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ٘ تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُ٘لْ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوْا اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِیْرَؔكُمْ اِلَى النَّارِ اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجعلوا لله أنداداً}؛ أي: نظراء وشركاء، {ليُضِلُّوا عن سبيله}؛ أي: ليضلُّوا العباد عن سبيل الله بسبب ما جعلوا لله من الأنداد ودَعَوْهم إلى عبادتها. {قل} لهم متوعِّداً: {تمتَّعوا} بكفركم وضلالكم قليلاً؛ فليس ذلك بنافعكم، {فإنَّ مصيركم إلى النار}؛ أي: مآلكم ومأواكم فيها وبئس المصير.