تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 29

جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۲۹﴾
جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ En
(وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے
En
یعنی دوزخ میں جس میں یہ سب جائیں گے، جو بدترین ٹھکانا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿جَہَنَّمَ یَصْلَوْنَهَا جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئْسَ الْ٘قَرَارُ اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{جهنم يَصْلَوْنها}؛ أي: يحيط بهم حرُّها من جميع جوانبهم. {وبئس القرارُ}.