تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 21

وَ بَرَزُوۡا لِلّٰہِ جَمِیۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ قَالُوۡا لَوۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ لَہَدَیۡنٰکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿٪۲۱﴾
اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، تو کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے تھے کہ بے شک ہم تمھارے تابع تھے، تو کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام آنے والے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمھیں ضرور ہدایت کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم گھبرائیں، یا ہم صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔ En
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
En
سب کے سب اللہ کے سامنے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اس وقت کمزور لوگ بڑائی والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذابوں میں سے کچھ عذاب ہم سے دور کرسکنے والے ہو؟ وه جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی ضرور تمہاری رہنمائی کرتے، اب تو ہم پر بے قراری کرنا اور صبر کرنا دونوں ہی برابر ہے ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ یعنی قیامت کے روز جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے ﴿ فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا پس کمزور کہیں گے یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین ﴿ لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا بڑائی والوں کو یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی جو گمراہی کے میدان میں قیادت کرتے تھے ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا ہم تو تمھارے پیرو تھے۔ یعنی دنیا میں ہم تمھاری پیروی کرتے تھے، تم ہمیں گمراہی کا حکم دیا کرتے تھے اور گمراہی کو ہمارے سامنے آراستہ کیا کرتے تھے، پس تم نے ہمیں بدراہ کر دیا ﴿ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ کیا پس تم ہم کو بچاؤ گے اللہ کے کسی عذاب سے کچھ یعنی خواہ یہ عذاب سے بچانا ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو ﴿ قَالُوْا یعنی قائدین اور سردار کہیں گے جیسے ہم گمراہ تھے ویسے ہی ہم نے تمھیں گمراہ کر دیا۔ اور ﴿لَوْ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰؔكُمْ اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمھیں ہدایت کر دیتے پس کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ﴿ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بے قراری کریں عذاب کی وجہ سے۔ ﴿ اَمْ صَبَرْنَا یا صبر کریں اس عذاب پر ﴿ مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ ہمارے لیے کوئی خلاصی نہیں یعنی کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں ہم پناہ لے سکیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہم اللہ کے عذاب سے بھاگ کر جاسکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وبرزوا}؛ أي: الخلائق {لله جميعاً}: حين يُنفخُ في الصور فيخرجون من الأجداث إلى ربِّهم، فيقفون في أرض مستوية، قاعٍ صفصفٍ، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً، ويبرُزون له لايخفى عليه منهم خافيةٌ؛ فإذا برزوا؛ صاروا يتحاجُّون، وكلٌّ يدفع عن نفسه ويدافع ما يقدر عليه، ولكن أنَّى لهم ذلك؟! فيقول {الضعفاء}؛ أي: التابعون والمقلِّدون، {للذين استكبروا}: وهم المتبوعون الذين هم قادة في الضَّلال: {إنَّا كنَّا لكم تَبَعاً}؛ أي: في الدنيا أمرتمونا بالضلال وزيَّنتموه لنا فأغويتمونا. {فهل أنتم} اليوم {مُغنون عنَّا من عذاب الله من شيء}؛ أي: ولو مثقال ذرَّة {قالوا}؛ أي: المتبوعون والرؤساء: أغويناكم كما غوينا، فَـ {لو هدانا الله لهديناكم}؛ فلا يُغني أحدٌ أحداً. {سواءٌ علينا أجَزِعْنا}: من العذاب، {أم صَبَرْنا}: عليه. {ما لنا من مَحيصٍ}؛ أي: [من] ملجأ نلجأ إليه، ولا مَهْرَبَ لنا من عذاب الله.