تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 99

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَبَوَیۡہِ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ﴿ؕ۹۹﴾
پھر جب وہ یوسف کے پاس داخل ہوئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جائو، امن والے، اگر اللہ نے چاہا۔ En
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
En
جب یہ سارا گھرانہ یوسف کے پاس پہنچ گیا تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن وامان کے ساتھ مصر میں آؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلَمَّا جب یعقوب علیہ السلام، ان کے بیٹے اور تمام گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین سے روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا۔ پس جب وہ مصر پہنچ گئے ﴿دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک اور نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ ﴿وَقَالَ اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا: ﴿ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ داخل ہو مصر میں، اگر اللہ نے چاہا، بے خوف ہو کر ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {فلمَّا} تجهَّز يعقوب وأولاده وأهلهم أجمعون وارتحلوا من بلادهم قاصدين الوصول إلى يوسف في مصر وسُكْناها، فلمَّا وصلوا إليه و {دخلوا على يوسفَ آوى إليه أبويهِ}؛ أي: ضمَّهما إليه واختصَّهما بقربه وأبدى لهما من البرِّ والإحسان والتبجيل والإعظام شيئاً عظيماً. {وقال} لجميع أهله: {ادخُلوا مصر إن شاء الله آمنين}: من جميع المكاره والمخاوف. فدخلوا في هذه الحال السارَّة، وزال عنهم النَّصَبُ ونكد المعيشة وحَصَلَ السرور والبهجة.