تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ یعقوب علیہ السلام نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا: ﴿ سَوْفَاَسْتَغْفِرُلَكُمْرَبِّیْ١ؕاِنَّهٗهُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ﴾”میں ضرور تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے“ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمھیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمھیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کر دیا تاکہ استغفار کامل ترین اور قبولیت کے قریب ترین ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَالَ} مجيباً لطلبتهم ومسرعاً لإجابتهم: {سوفَ أستغفِرُ لكم ربِّي إنَّه هو الغفور الرحيم}: ورجائي به أن يغفرَ لكم ويرحمكم ويتغمَّدكم برحمته.
وقد قيل: إنه أخَّر الاستغفار لهم إلى وقت السحر الفاضل؛ ليكونَ أتمَّ للاستغفار وأقرب للإجابة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔