تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 98

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾
اس نے کہا میں عنقریب تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا۔ بے شک وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
En
کہا اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا، وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ یعقوب علیہ السلام نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا: ﴿ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ میں ضرور تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ تمھیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمھیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کر دیا تاکہ استغفار کامل ترین اور قبولیت کے قریب ترین ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالَ} مجيباً لطلبتهم ومسرعاً لإجابتهم: {سوفَ أستغفِرُ لكم ربِّي إنَّه هو الغفور الرحيم}: ورجائي به أن يغفرَ لكم ويرحمكم ويتغمَّدكم برحمته.

وقد قيل: إنه أخَّر الاستغفار لهم إلى وقت السحر الفاضل؛ ليكونَ أتمَّ للاستغفار وأقرب للإجابة.