تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 82

وَ سۡـَٔلِ الۡقَرۡیَۃَ الَّتِیۡ کُنَّا فِیۡہَا وَ الۡعِیۡرَ الَّتِیۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۸۲﴾
اور اس بستی سے پوچھ لے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں۔ En
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
En
آپ اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرما لیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں، اور یقیناً ہم بالکل سچے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَسْـَٔلِ اور دریافت کرلیجیے۔ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے۔ تو ﴿ الْ٘قَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَالْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں ہم نے جو آپ کو خبر سنائی ہے وہ اس کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَؔ اور ہم البتہ سچے ہیں ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ ہم نے تغیر و تبدل کیا ہے بلکہ یہی واقعات ہیں۔ (جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واسأل}: إن شككْتَ في قولنا {القريةَ التي كنَّا فيها والعير التي أقبلنا فيها} فاطَّلعوا على ما أخبرناك به، {وإنَّا لصادقونَ}: لم نكذِبْ، ولم نغيِّر، ولم نبدِّل، بل هذا الواقع.