تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَسْـَٔلِ﴾”اور دریافت کرلیجیے۔“ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے۔ تو ﴿ الْ٘قَرْیَةَالَّتِیْكُنَّافِیْهَاوَالْعِیْرَالَّتِیْۤاَقْبَلْنَافِیْهَا﴾”اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں “ ہم نے جو آپ کو خبر سنائی ہے وہ اس کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّالَصٰدِقُوْنَؔ﴾”اور ہم البتہ سچے ہیں “ ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ ہم نے تغیر و تبدل کیا ہے بلکہ یہی واقعات ہیں۔ (جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واسأل}: إن شككْتَ في قولنا {القريةَ التي كنَّا فيها والعير التي أقبلنا فيها} فاطَّلعوا على ما أخبرناك به، {وإنَّا لصادقونَ}: لم نكذِبْ، ولم نغيِّر، ولم نبدِّل، بل هذا الواقع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔