تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 81

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡکُمۡ فَقُوۡلُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَکَ سَرَقَ ۚ وَ مَا شَہِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَ مَا کُنَّا لِلۡغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اپنے باپ کی طرف واپس جائو، پس کہو اے ہمارے باپ! بے شک تیرے بیٹے نے چوری کر لی اور ہم نے شہادت نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔ En
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
En
تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ اباجی! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے۔ ہم کچھ غیب کی حفاﻇت کرنے والے نہ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس نے اپنے بھائیوں کو وصیت کی کہ انھیں اپنے باپ سے جا کر کیا کہنا ہے۔﴿ اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور کہو، ابا جان، آپ کے بیٹے نے تو چوری کی یعنی وہ چوری کے جرم میں دھر لیا گیا ہے اس کے باوجود کہ ہم نے اس کے بارے میں بھرپور کوشش کی مگر ہم اس کو ساتھ نہ لا سکے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی گواہی نہیں دیتے جو ہمارے سامنے نہ تھی ہم تو صرف اسی چیز کا مشاہدہ کر سکتے تھے جو ہمارے سامنے تھی کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ بادشاہ کا پیمانہ بنیامین کی خرجی سے برآمد ہوا۔ ﴿ وَمَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰؔفِظِیْنَ اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کرتے نہ اس کو ساتھ لے جانے کے لیے اتنی کوشش کرتے اور نہ آپ کو کوئی عہد دیتے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وصَّاهم ما يقولون لأبيهم، فقال: {ارجِعوا إلى أبيكم فقولوا يا أبانا إنَّ ابنك سرقَ}؛ أي: وأخذ بسرقته، ولم يحصل لنا أن نأتيك به مع ما بذلنا من الجهد في ذلك، والحال أنَّا ما شَهِدْنا بشيء لم نعلَمْه، وإنَّما شهِدْنا بما علمنا؛ لأنَّنا رأينا الصُّواع استُخْرِج من رحله. {وما كنَّا للغيب حافظين}؛ أي: لو كنا نعلم الغيبَ؛ لما حَرَصْنا وبذَلْنا المجهود في ذَهابه معنا، ولمَا أعطيناك عهودنا ومواثيقنا، فلم نظنَّ أن الأمر سيبلغ ما بلغ.