تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 8

اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِۣ ۚ﴿ۖ۸﴾
جب انھوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔ بے شک ہمارا باپ یقینا کھلی غلطی میں ہے۔ En
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
En
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذْ قَالُوْا جب انھوں نے کہا۔ یعنی جب انھوں نے آپس میں کہا: ﴿ لَیُوْسُفُ وَاَخُوْهُ یوسف اور اس کا بھائی۔ یعنی یوسف علیہ السلام اور ان کے حقیقی بھائی بنیا مین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے ﴿ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں؟ ﴿ اِنَّ اَبَ٘انَا لَ٘فِیْ ضَلٰ٘لٍ مُّبِيْنٍ یقینا ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذ قالوا}: فيما بينهم: {لَيوسُفُ وأخوه}: بنيامينُ؛ أي: شقيقه، وإلاَّ فكلُّهم إخوةٌ، {أحبُّ إلى أبينا منا ونحن عصبةٌ}؛ أي: جماعة، فكيف يفضلهما [علينا] بالمحبة والشفقة. {إنَّ أبانا لفي ضلال مبين}؛ أي: لفي خطأٍ بيِّن حيث فضَّلهما علينا من غير موجب نراه، ولا أمر نشاهده.