تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 7

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَ اِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۷﴾
بلاشبہ یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں تھیں۔ En
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں نشانیاں ہیں۔ یعنی قصۂ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّلسَّآىِٕلِیْ٘نَ پوچھنے والوں کے لیے۔ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {لقدْ كان في يوسُفَ وإخوتِهِ آياتٌ}؛ أي: عبر وأدلَّة على كثير من المطالب الحسنة، {للسائلين}؛ أي: لكلِّ من سأل عنها بلسان الحال أو بلسان المقال؛ فإنَّ السائلين هم الذين ينتفعون بالآيات والعبر، وأما المعرِضون؛ فلا ينتفعون بالآيات ولا بالقصص والبيِّنات.