تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 75

قَالُوۡا جَزَآؤُہٗ مَنۡ وُّجِدَ فِیۡ رَحۡلِہٖ فَہُوَ جَزَآؤُہٗ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
انھوں نے کہا اس کی جزا وہ شخص ہے جس کے کجاوے میں وہ پایا جائے، سو وہ شخص ہی اس کی جزا ہے۔ اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
En
جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ﻇالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ٘ فَهُوَ انھوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا ﴿ جَزَآؤُهٗ اس کی جزا ہے یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہو جاتا تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا۔ اسی لیے انھوں نے کہا: ﴿ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا جزاؤه مَن وُجِدَ في رحله فهو}؛ أي: الموجود في رحله، {جزاؤُهُ}: بأن يتملَّكه صاحب السرقة، وكان هذا في دينهم؛ أنَّ السارق إذا ثبتت عليه السرقة؛ كان ملكاً لصاحب المال المسروق، ولهذا قالوا: {كذلك نَجْزي الظالمين}.