تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْاجَزَآؤُهٗمَنْوُّجِدَفِیْرَحْلِهٖ٘فَهُوَ ﴾”انھوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی“ یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا ﴿ جَزَآؤُهٗ﴾”اس کی جزا ہے“ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہو جاتا تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا۔ اسی لیے انھوں نے کہا: ﴿ كَذٰلِكَنَجْزِیالظّٰلِمِیْنَ ﴾”ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا جزاؤه مَن وُجِدَ في رحله فهو}؛ أي: الموجود في رحله، {جزاؤُهُ}: بأن يتملَّكه صاحب السرقة، وكان هذا في دينهم؛ أنَّ السارق إذا ثبتت عليه السرقة؛ كان ملكاً لصاحب المال المسروق، ولهذا قالوا: {كذلك نَجْزي الظالمين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔