تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 49

ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔ En
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
En
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ یَ٘اْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ پھر اس کے بعد آئے گا۔ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْهِ یَعْصِرُوْنَ ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہو گی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضروریات سے زیادہ ہوگا، حتیٰ کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔
شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لیے کیا… حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی… کہ یوسف علیہ السلام نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سات سال کا لگاتار قحط بکثرت شادابی کے ذریعے ہی سے ختم ہو سکتا ہے ورنہ اندازے کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم يأتي من بعد ذلك}؛ أي: السبع الشداد {عامٌ فيه يُغاث الناس وفيه يعصِرونَ}؛ أي: فيه تكثُر الأمطار والسيول، وتكثُر الغلاتُ، وتزيد على أقواتهم حتَّى إنَّهم يعصِرون العنب ونحوه زيادةً على أكلهم، ولعلَّ استدلاله على وجودِ هذا العام الخصب مع أنه غير مصرَّح به في رؤيا الملك؛ لأنَّه فهم من [التقدير] بالسبع الشِّداد أنَّ العام الذي يليها يزولُ به شدَّتُها، ومن المعلوم أنَّه لا يزولُ الجَدْبُ المستمرُّ سبع سنين متوالياتٍ إلا بعام مُخْصِبٍ جدًّا، وإلاَّ؛ لَمَا كان للتقدير فائدة.

فلما رجع الرسول إلى الملك والناس، وأخبرهم بتأويل يوسف للرؤيا؛ عجبوا من ذلك، وفرِحوا بها أشدَّ الفرح.