ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔
En
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
En
اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 49) ➊ {ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ …:” يُغَاثُ “ ”غَيْثٌ“} سے بھی ہو سکتا ہے اور {”غَوْثٌ“} سے بھی۔ {”غَيْثٌ“} سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور {”غَوْثٌ“} سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ {” يَعْصِرُوْنَ “} ”نچوڑیں گے“ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے{ ” يَعْصِرُوْنَ “} کے معنی {”يَحْلِبُوْنَ“} (دودھ دوہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا خشک سالوں کی گنتی سات ہونے سے استدلال فرمایا کہ وہ سات تبھی رہتے ہیں جب ان کے بعد کم از کم ایک خوش حالی کا سال ہو اور اس سے بھی کہ اللہ کی رحمت کا تقاضا بھی شدت کے بعد آسانی کا ہے۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگربادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی {” كِتَابُ التَّعْبِيْرِ “} میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے: {” بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ “} ”قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔“
➋ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر کا خواب بھی سچا ہوتا ہے، اگربادشاہ کا کافر ہونا ثابت ہو۔ اس سے پہلے دونوں قیدی جو مشرک تھے، ان کے خواب بھی سچے نکلے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی {” كِتَابُ التَّعْبِيْرِ “} میں اس سے یہ استدلال فرمایا ہے: {” بَابُ رُؤْيَا أَهْلِ السُّجُوْنِ وَالْفَسَادِ وَالشِّرْكِ “} ”قیدیوں اور اہل شرک و فساد کے خواب کا بیان۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
49۔ 1 یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو عطا فرمایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت [48] سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور اس سال وہ رس نچوڑیں گے
[48] اس آیت کے مطابق سیدنا یوسفؑ نے جو خوشخبری سنائی یہ بادشاہ کے خواب یا اس کی تعبیر کا حصہ نہیں تاہم اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق آپؑ نے لوگوں کو یہ بشارت بھی دے دی کہ ان چودہ سالوں کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں خوب باران رحمت ہو گی اور جن جن چیزوں کو نچوڑ کر ان سے روغن یا رس حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے سب غلوں اور پھلوں کی افراط سے پیداوار ہو گی۔ کھیتی باڑی بکثرت ہو گی۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور بالخصوص انگور وغیرہ کو نچوڑ کر لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال بیان فرمائی کیونکہ وہ یہی کام کرتا تھا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّ یَ٘اْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ﴾ ”پھر اس کے بعد آئے گا۔“ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْهِ یَعْصِرُوْنَ ﴾ ”ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہو گی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے“ یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضروریات سے زیادہ ہوگا، حتیٰ کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔
شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لیے کیا… حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی… کہ یوسف علیہ السلام نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سات سال کا لگاتار قحط بکثرت شادابی کے ذریعے ہی سے ختم ہو سکتا ہے ورنہ اندازے کا کوئی فائدہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم يأتي من بعد ذلك}؛ أي: السبع الشداد {عامٌ فيه يُغاث الناس وفيه يعصِرونَ}؛ أي: فيه تكثُر الأمطار والسيول، وتكثُر الغلاتُ، وتزيد على أقواتهم حتَّى إنَّهم يعصِرون العنب ونحوه زيادةً على أكلهم، ولعلَّ استدلاله على وجودِ هذا العام الخصب مع أنه غير مصرَّح به في رؤيا الملك؛ لأنَّه فهم من [التقدير] بالسبع الشِّداد أنَّ العام الذي يليها يزولُ به شدَّتُها، ومن المعلوم أنَّه لا يزولُ الجَدْبُ المستمرُّ سبع سنين متوالياتٍ إلا بعام مُخْصِبٍ جدًّا، وإلاَّ؛ لَمَا كان للتقدير فائدة.
فلما رجع الرسول إلى الملك والناس، وأخبرهم بتأويل يوسف للرؤيا؛ عجبوا من ذلك، وفرِحوا بها أشدَّ الفرح.