تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 29

یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
یوسف! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔ En
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
En
یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا ﴿ یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰؔذَا یوسف! جانے دو اس ذکر کو یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿وَاسْتَغْفِرِیْ اے عورت! بخشش مانگ ﴿ لِذَنْۢبِكِ١ۖ ۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕیْنَ اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی اس شخص نے یوسف علیہ السلام کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم إنَّ سيدَها لما تحقَّق الأمر؛ قال ليوسف: {يوسُفُ أعرِضْ عن هذا}؛ أي: اترك الكلام فيه وتناسَهُ ولا تذكُره لأحدٍ طلباً للستر على أهله. {واستغفِري}: أيتها المرأة، {لذنبِكِ إنَّك كنتِ من الخاطئين}: فأمر يوسف بالإعراض، وهي بالاستغفارِ والتوبة.