ترجمہ و تفسیر — سورۃ يوسف (12) — آیت 29

یُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ ہٰذَا ٜ وَ اسۡتَغۡفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِئِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
یوسف! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔ En
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
En
یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ {يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا …:} عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف علیہ السلام سے کہا کہ یوسف! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمھاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہو گئی ہے)۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقینا تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ {مُخْطِئٌ} اور {خَاطِئٌ} کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہو جائے نہ کہ دانستہ طور پر اور {خَاطِئٌ} وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا: «{اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ [القصص: ۸] بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
➋ بظاہر یہ عزیز مصر کا حلم و تحمل ہے، مگر درحقیقت اس سے اس کا بے غیرت اور دیوث ہونا ثابت ہوتا ہے کہ اس نے اسے معمول کی ایک بات قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا۔ نہ بیوی کو کوئی سزا دی اور نہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کوئی اہتمام ضروری سمجھا۔ اس سے اس وقت کے مصر کے اونچے طبقے کی اخلاقی حالت معلوم ہوتی ہے جو اب مسلمانوں کے طبقۂ اشراف کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ (الا ما شاء اللہ)
➌ { وَ اسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں خواہ نیک ہوں یا بد، گناہ اور نیکی کی پہچان پائی جاتی ہے اور ایسی ہستی پر بھی کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا ہے جس کی نافرمانی کے بعد اس سے بخشش مانگنی چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی اس کا چرچا مت کرو۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر پر حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی واضح ہوگئی تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پھر یوسف سے کہا: ”اس بات کو جانے دو“ اور اپنی بیوی سے کہا: تو اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ بلا شبہ تو ہی خطاکار ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا ﴿ یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰؔذَا یوسف! جانے دو اس ذکر کو یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿وَاسْتَغْفِرِیْ اے عورت! بخشش مانگ ﴿ لِذَنْۢبِكِ١ۖ ۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕیْنَ اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی اس شخص نے یوسف علیہ السلام کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم إنَّ سيدَها لما تحقَّق الأمر؛ قال ليوسف: {يوسُفُ أعرِضْ عن هذا}؛ أي: اترك الكلام فيه وتناسَهُ ولا تذكُره لأحدٍ طلباً للستر على أهله. {واستغفِري}: أيتها المرأة، {لذنبِكِ إنَّك كنتِ من الخاطئين}: فأمر يوسف بالإعراض، وهي بالاستغفارِ والتوبة.