تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 16

وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾
اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔ En
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
En
اور عشا کے وقت (وه سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؔ اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجاؤوا أباهم عشاءً يبكون}: ليكون إتيانُهم متأخِّراً عن عادتهم، وبكاؤهم دليلاً لهم وقرينة على صدقهم.